نئی دہلی، 25 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ایم جے اکبر MeTooکیس میں صحافی پریا رمانی نے ضمانت ملنے کے بعد کہا کہ سچ ہی ان کا ڈھال ہے اور وہ جلد ہی کورٹ کو اپنی کہانی بتائیں گی۔پریا رماني نے سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر پر جنسی حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا،پریا رماني پر ایم جے اکبر نے مجرمانہ ہتک عزت کا معاملہ درج کیا ہے۔اس معاملے میں دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیر کو ان ضمانت مل گئی۔مودی حکومت کے سابق وزیر ایم جے اکبرکی طرف سے صحافی پریا رماني پر کئے گئے ہتک عزت کے مقدمے میں آج بطور ملزم پریا رماني پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش ہوئی اور ضمانت کے لئے عرضی لگائی۔کورٹ نے چند منٹ ہوئی سماعت کے بعد پریا رماني کو 10 ہزار روپے کے مچلکے پر ضمانت دے دی۔پریا رمانی کی جانب سے ضمانت ملنے کے بعد ایک اور عرضی لگائی گئی جس معاملے کی سماعت کے دوران ان کی ذاتی پیشی سے چھوٹ دینے کی کورٹ سے فریاد گئی تھی، لیکن ایم جے اکبر کے وکلاء نے پریا رماني کی عرضی کی مخالفت کی۔کورٹ نے اس معاملے میں اکبر کے وکلاء کو اپنا جواب داخل کرنے کے لئے 8 اپریل تک کا وقت دیا ہے۔ضمانت ملنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پریا رماني نے کہاکہ 10 اپریل وہ میرے خلاف الزام طے کریں گے،اس کے بعد میں آپ کی کہانی بتاؤں گی،سچ ہی میری حفاظت کرے گا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ 8 مارچ مقرر کی گئی ہے۔
MeTooانکشافات کے تحت بہت سی خواتین صحافیوں کی طرف سے جنسی استحصال کا الزام جھیل رہے سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر نے دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں تعزیرات ہند کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت فوجداری ہتک عزت کا کیس درج کرایا تھا۔آئی پی سی کی ان دفعات کے تحت مجرم پائے جانے پر پریا رماني کو دو سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ایم جے اکبر نے قانونی فرم کرنجاوالا اینڈ کمپنی کے ذریعے صحافی پریا رماني پر کیس درج کرایا ہے۔دلچسپ یہ بھی ہے کہ خود وکیل کرنجاوالا کے خلاف ایک خاتون وکیل نے بھی ہراساں کرنے کا الزام لگا رکھاہے۔
#MeTooکے لپیٹے میں آئے ایم جے اکبر کو وزیرکے عہدے سے استعفی دینا پڑا تھا۔ان کے اوپر تقریبا دو درجن خواتین صحافیوں نے #MeTooمہم کے تحت الزام لگائے ہیں۔اکبر پر پہلا الزام سینئر صحافی پریا رماني نے ہی لگایا تھا، جس میں انہوں نے ایک ہوٹل کے کمرے میں انٹرویو کے دوران کی اپنی کہانی بیان کی تھی۔رماني کے الزامات کے بعد اکبر کے خلاف الزامات کا سیلاب آ گیا اور ایک کے بعد ایک کئی دیگر خواتین صحافیوں نے ان پر سنگین الزام لگائے۔ایم جے اکبر نے اپنے خلاف لگے جنسی استحصال کے الزامات کو بے بنیاد اور غلط بتایا تھا۔اکبر نے پریا رماني کے خلاف جھوٹے الزام لگا کر بدنام کرنے کی سازش کا مقدمہ درج کیا ہے۔اپنی درخواست میں ایم جے اکبر نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ملزم پریا رماني پیشے سے صحافی ہیں،ان الزامات سے میری سماجی ساکھ کو بھاری دھکا لگا ہے۔